متاعِ سُخن

متاعِ سُخن

Baland Iqbal

35,38 €
IVA incluido
Disponible
Editorial:
Baland Iqbal
Año de edición:
2024
Materia
Lenguaje: consulta y general
ISBN:
9788196265007
35,38 €
IVA incluido
Disponible

Selecciona una librería:

  • Librería Samer Atenea
  • Librería Aciertas (Toledo)
  • Kálamo Books
  • Librería Perelló (Valencia)
  • Librería Elías (Asturias)
  • Donde los libros
  • Librería Kolima (Madrid)
  • Librería Proteo (Málaga)

وقت کی آنکھ مجھے دیکھ رہی ہے۔ میرا ہر عمل اُس کی نگاہ کی زد میں ہے۔ میں جو کچھ دیکھتا ہوں، جو کچھ سوچتا ہوں اور جو کچھ کہتا ہوں۔۔۔ لمحوں میں تقسیم ہو کر وقت کی اکائی میں سمٹ جاتا ہے، مجھے یہ اختیار نہیں کہ میں اِس اکائی سے اپنے کسی عمل کو الگ کر سکوں، میں گزرتے لمحوں کو روک سکتا ہوں اور نہ آنے والے لمحوں کے احتساب سے بچ سکتا ہوں۔ میں چاہوں یا نہ چاہوں، میری فرد عمل مرتب ہو رہی ہے اور میرے دل میں یہ دھڑکا بیدارہے کہ تاریخ کا فیصلہ میرے حق میں کیا ہو گا؟ میں جو بیک وقت شاعر بھی ہوں اور ایک ایسا آدمی بھی جو اپنی پرچھائیوں میں بٹ چکا ہے۔اِن پرچھائیوں میں اپنی وحدت کی تلاش اکثر مجھے اپنے آپ سے نبرد آزما رکھتی ہے اور شکست وریخت کے اِس عمل میں اکثر وہ شاعر بھی ٹوٹ پھوٹ جاتا ہے جو میری روح کا استعارہ ہے اور میں عرصے تک اپنے بکھرے ہوئے ریزوں کو جمع کرنے اور انہیں پھر سے جوڑنے میں سرگرداں رہتا ہوں۔ یہ عرصہ مجھ پر ایک عذاب کی طرح گزرتا ہے۔     آگ میں پھول’ سے لے کر’مٹی کا قرض’تک میں کتنی ہی بار اس روح فرسا اذیت سے گزرا ہوں اور خدا جانے ابھی کتنے کرب انگیز مراحل سے گزرنا باقی ہے۔ میں نہیں جانتا کہ روح اور بدن کی اس جنگ میں میرا کیا حشر ہو گا میں پرچھائیوں میں بٹے ہوئے آدمی کے ملبے تلے دب کر رہ جاؤں گا یا اُس شاعر کو بچا لاؤں گاجو مر کر بھی زندہ رہنا چاہتا ہے جو فنا میں بھی ثبات کے خواب دیکھتا ہے اور ظہور کے نت نئے پیرائے تلاش کرتا رہتا ہے شاعری اسی معنی میں اپنے عہد کی تنقید بھی ہے کہ وہ تاریخ کے تسلسل میں عصرِ رواں کا نہ صرف محاسبہ کرتی ہے بلکہ محاکمہ بھی کرتی ہے اور یہ محاکمہ ثابت کرتا ہے کہ شاعر کااپنے زمانے سے رشتہ مجازی تھایاحقیقی، جزوی تھا یا کُلّی۔۔۔ وہ گردو پیش کی دنیا میں صرف اپنی ذات کا سفیر تھا یا اپنے عہد کا وہ ہر کارہ بھی جو گھر گھر کا پیامبر ہوتا ہے، اس نے محض آب حیات پی کر خضر کی ابدیت کے خواب دیکھے یا وہ زہر بھی پیا ہے جو اپنی دھرتی کی محبت میں ’نیل کنٹھ’ کو پینا پڑا تھا۔حیاتِ ابدی کی لالچ میں تو سکندر نے بھی خضر کو رہنما کیا تھا اور اِسّر (راکھشش) بھی وہ امرت لے بھاگے تھے جو دیوتاؤں نے سمندر کو متھ کر نکالا تھا لیکن۔۔۔ زہر وہی پیتا ہے جسے اپنی مٹی عزیز ہوتی ہے۔                               حمایت علی شاعرؔ

Artículos relacionados

  • Progressing Tourism Research - Bill Faulkner
    Professor Bill Faulkner was the father of tourism research in Australia, having spent 20 years in the field, first within government and then in academe. He was a visionary whose impact on the tourism research field extended well beyond Australia. This book contains a collection of Bill’s publications grouped thematically under the headings Methods, Events, Destinations, and Re...
    Disponible

    51,23 €

  • The Cambridge Handbook of Experimental Syntax
    Grant Goodall
    ...
    Disponible

    76,23 €

  • Progressing Tourism Research - Bill Faulkner
    Professor Bill Faulkner was the father of tourism research in Australia, having spent 20 years in the field, first within government and then in academe. He was a visionary whose impact on the tourism research field extended well beyond Australia. This book contains a collection of Bill’s publications grouped thematically under the headings Methods, Events, Destinations, and Re...
  • The Global Nomad
    Backpackers have shifted from the margins of the travel industry into the global spotlight. This volume explores the international backpacker phenomenon, drawing together different disciplinary perspectives on its meaning, impact and significance. Links are drawn between theory and practice, setting backpacking in its wider social, cultural and economic context. ...
  • Just Kids
    Risa Applegarth
    Although children have prompted and participated in numerous acts of protest and advocacy, their words and labors are more likely to be dismissed than discussed as serious activism. Whether treated disparagingly by antagonistic audiences or lauded as symbols of hope by sympathetic ones, children and teens are rarely considered capable organizers and advocates for change. In Jus...
    Disponible

    44,88 €

  • Just Kids
    Risa Applegarth
    Although children have prompted and participated in numerous acts of protest and advocacy, their words and labors are more likely to be dismissed than discussed as serious activism. Whether treated disparagingly by antagonistic audiences or lauded as symbols of hope by sympathetic ones, children and teens are rarely considered capable organizers and advocates for change. In Jus...

Otros libros del autor

  • میری اکیاون کہانیاں
    Baland Iqbal
    ڈاکٹر بلند اقبال کا تعلق بھی منٹو، عصمت چغتائی ، جوش ملیح آبادی اور مصطفی زیدی کے قبیلے سے ہے جن پر اردو کے روایتی ادیب اور قاری اس لیے پتھر پھینکتے رہے ہیں کیونکہ انہیں عوام کو آئینہ دکھانے ، پورے انسان کی کہانی سنانے اور مشرقی روایات کو چیلنج کرنے کی عادت تھی۔ ان مشرقی روایات میں جنسی روایات بھی شامل ہیں اور مذہبی روایات بھی۔ ایک نفسیات کے طالبعلم ہونے کے ناطے میں ان کے افس...
    Disponible

    12,78 €

  • پلیٹو سے پوسٹ ماڈرنزم تک ۔ مغربی ادب
    Baland Iqbal
    پلیٹو سے پوسٹ ماڈرن ازم تک ۔ مغربی ادب ادب کا یہ سفر یونانی دور سے اکیسویں صدی تک کی سماجی تبدیلیوں، سیاسی مسائل، تاریخی حادثات، فلسفیانہ تخیلات، ادبی شخصیات اوراُن کی اہم تخلیقات کے ارتقائی مراحل کے تزکروں پر مشتمل ہے جسے ڈاکٹر بلند اقبال نےعہد بہ عہد دس ادوار سے تشبہہ دی ہے کیونکہ تاریخ کا یہ عمومی سفریونانی دورسے ایک باضابطہ دستاویز کی شکل میں ملتا ہے اور پھر اُس کے بعد رومن...
    Disponible

    25,59 €